وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی کی ملاقات‘شہبازشریف کو9نکاتی مطالبات پر مشتمل خط دیا‘غزہ کی صورتحال پرمختلف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں‘فضل الرحمن کا بھی رابطہ

ٹیرف پروفد امریکہ بھیجنے کافیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کیساتھ مل کر کام کرینگے شہبازشریف
وزیرِ اعظم  کی  مذاکراتی وفد میں معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کو شامل کرنے کی ہدایت ‘امریکہ پاکستان کے تجارتی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، حکومت  تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے
امریکی کمپنیاں  معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے بہترین موقع سے استفادہ کریں‘بجلی کی قیمت میں کمی سے عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مسابقت ممکن ہوسکے گی، وزیراعظم کی  امریکی وفد سے ملاقات اور اجلاسوں میں گفتگو

اسلام آباد (آئی این پی ) پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کیلئے اعلی سطح کا وفد بھیجنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفد میں معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔یہ فیصلہ وزیرِ اعظم  شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی برآمدات میں اضافے اور امریکا کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف سے متعلق جائزہ اجلاس  میں کیا گیا ۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد کو وزیرِ اعظم کی جانب سے امریکا کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر مذاکرات کے بعد مستقبل کیلئے باہمی طور پر مفید لائحہ عمل طے کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔  وزیرِ اعظم نے امریکا کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کیلئے وفد کی تشکیل کے دوران معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کندگان کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ امریکا پاکستان کے تجارتی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، حکومت، امریکا کے ساتھ  تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے‘دریں اثناء  شہباز شریف  نے کہا ہے   پاکستان کے شعبہ معدنیات میں وسیع استعداد موجود ہے، امریکی کمپنیوں کو معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونا چاہیے۔وزیر اعظم سے امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار ایرک میئر نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔امریکی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے  مزید کہا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور انکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں ، سرمایہ کاری اور تجارتی شعبے میں تعاون بڑھانا ضروری ہے ، انسداد دہشتگردی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر امریکی عہدیدار ایرک میئر نے منرلز انویسٹمنٹ فورم کے کامیاب انعقاد پر وزیر اعظم کو مبارکباد دی ، امریکی وفد نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کا خواہاں ہے۔شہبازشریف نے کہا  بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی  اور اس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر مسابقت ممکن ہوسکے گی۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے، عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات اور ان کو قائل کرنے کے بعد بجلی کی قیمتوں کی کمی کا سہرا معاشی ٹیم کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی، پیداواری لاگت کم ہونے سے اضافی پیداوار اور نتیجتا برآمدات میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے سے پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر مسابقت ممکن ہوسکے گی۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں تین رکنی وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بلا اشتعال بمباری اور ظلم و ستم پر بین الاقوامی قوتوں کی خاموشی پر تشویش کا اظہارکیا۔ وزیرِ اعظم نے غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر جاری صہیونی ظلم و جبر کے خلاف ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھانے اور  پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔امیر جماعت اسلامی نے 9 نکات پر مشتمل خط وزیراعظم کو دیا، خط میں غزہ کی صورتحال سمیت اہم اقدامات تجویز کئے گئے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ، قطر مل کر غزہ کی صورتحال پر فعال کردار ادا کریں، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی میں معاملہ اٹھایا جائے۔متن کے مطابق عالمی انسانی حقوق، بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے، فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی کو روکنے کے لیے جنیوا کنونشن پر عملدرآمد کروانے کیلئے پاکستان کردار ادا کرے۔