اسلام آباد:جماعت اسلامی پاکستان نے 14 اپریل کو اسلام آباد میں بلوچستان پر قومی مجلس مشاورت اور 20 اپریل کو پشاور میں بڑے امن مارچ کا اعلان کر دیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب تک عوامی نمائندوں کی بجائے فارم 47 والوں کی حکومت رہے گی، مہنگائی اور دہشت گردی میں کمی نہیں آئے گی۔دفتر جماعت اسلامی اسلام آباد میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے رہنماؤں پروفیسر محمد ابراہیم، عنایت اللہ خان اور میاں اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور سابق فاٹا میں بدامنی انتہا کو چھو چکی ہے، مسلسل سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں بھی حالات خراب ہیں اور وہاں کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بیڈ گورننس کا ملبہ حکومت پر ڈال دیا۔ حافظ نعیم نے سوال کیا کہ اس بیڈ گورننس والی حکومت کو لایا کون ہے؟ جب آپ فارم 45 کی بجائے فارم 47 والوں کو اقتدار میں لائیں گے تو عوامی نمائندے نہیں ہوں گے، اور عوام کے مہنگائی و بدامنی کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کہہ رہے ہیں کہ ایک اور پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس بلایا جائے، جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو بلایا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے انہیں کیوں قائل نہیں کیا گیا تھا؟ اور شہباز شریف اور بلاول میں کیا فرق ہے؟انہوں نے حکومتی دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاحال بجلی سستی کرنے کے بجائے صرف اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی پی پیز سے بات نہ کرنے والی حکومت کو ہمارے دھرنے کے نتیجے میں ان سے بات چیت پر مجبور کر دیا ہے۔ اب حکومت کو بجلی کی قیمتیں کم کرنے پر بھی مجبور کریں گے، ورنہ عید کے بعد مہنگائی کے خلاف عوام کو متحرک کریں گے۔