دہشت گردی صرف طاقت سے نہیں، اس کے اسباب ختم کرنا ضروری ہے:حافظ نعیم

دہشت گردی صرف طاقت سے نہیں، اس کے اسباب ختم کرنا ضروری ہے:حافظ نعیم

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ اس کے اسباب ختم کرکے ہی روکا جا سکتا ہے۔

قبضہ چھڑوانا ناگزیر:

حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت سے قبضہ چھڑوانا ناگزیر ہو چکا ہے۔کراچی کی موجودہ حکومت کو جعلی اور لسانی/خاندانی سیاست کا حصہ قرار دیا۔جماعت اسلامی عوامی طاقت کے ذریعے قبضہ چھڑوانے کی جدوجہد کرے گی۔
کشمیر اور فلسطین:

کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر کوئی ثالثی قابل قبول نہیں۔غزہ سے متعلق عالمی فورمز میں حصہ لینا صرف فلسطینی مؤقف کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ملکی نظام اور عوامی رائے:

پاکستان کا قیام اللہ کے نظام اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ہوا تھا۔فارم 47 کے ذریعے عوام کی رائے دباکر حکومتیں مسلط کرنا ملک کے مسائل بڑھا رہا ہے۔
بدامنی اور دہشت گردی:

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔دہشت گردوں کو مقامی سطح پر سہولت ملنا ریاستی ناکامی کی علامت ہے۔
گورننس اور اختیارات:

اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا رہے، بلدیاتی نظام مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔دو بڑی سیاسی جماعتیں عوام کو سہولت فراہم کرنے اور نظام چلانے میں ناکام ہیں۔
برین ڈرین اور نوجوانوں کے مسائل:

ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔حکومت کا مؤقف کہ ٹیلنٹ ایکسپورٹ زرمبادلہ لائے گا، غلط اور بیمار سوچ ہے۔اگر ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع ہوں تو نوجوان باہر نہیں جائیں گے۔
نجکاری اور قومی ادارے:

پہلے ادارے کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے تباہ کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں فروخت کر کے کامیابی منائی جاتی ہے۔جماعت اسلامی نجکاری کی اس پالیسی پر تنقید کرتی ہے اور قومی وسائل کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
جماعت اسلامی کا وژن:

جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھتی ہے، مقصد ذاتی یا گروہی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے۔نسل، مسلک یا زبان کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی، ہر اہل فرد اس جدوجہد کا حصہ بن سکتا ہے۔
نوجوانوں کی شمولیت:

پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کر کے قابض قوتوں سے نجات دلانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔