ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہٰ احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر کراچی میں بڑھتے ہوئے مہلک ٹریفک حادثات پر از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 کے آغاز سے کراچی میں 207 اموات اور 2,623 افراد زخمی ہو چکے ہیں، اور ان حادثات میں ایک المناک واقعہ مالیر ہالٹ حادثہ تھا جس میں ایک حاملہ خاتون، اس کا شوہر اور نوزائیدہ بچہ جان سے گئے۔طحہٰ احمد خان نے خط میں مطالبہ کیا کہ مالیر ہالٹ سانحے پر فوری کارروائی کی جائے اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کچی شراب پینے والوں کے لیے معاوضہ دیتی ہے، تو کراچی کے شہریوں کو کیوں نہیں؟ مزید یہ کہ غیر قانونی ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔انہوں نے کراچی کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور مجرمانہ غفلت پر سخت قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
طحہٰ احمد خان نے یہ بھی کہا کہ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا جائے، اور کراچی میں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات آئین کے آرٹیکل 9 اور 25 کی خلاف ورزی ہیں اور موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے ہیوی ٹریفک کے لیے مخصوص اوقات اور روٹس مختص کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کراچی میں اسپیڈ کیمرے، چالان اور وہیکل فٹنس چیکنگ کے مؤثر نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔