امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء حکومت میں شامل ہوکر مزے لوٹ رہے ہیں جبکہ کراچی تباہ حالی کا شکار ہے۔
کراچی میں بارشوں کے دوران اور اس کے بعد کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کی مجموعی حالت پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے نالوں کی صفائی کے لیے 7 کروڑ روپے مختص کیے لیکن اس پر کوئی عملی کام نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ لیاری ندی اور گجر نالے کا پانی سمندر کے بجائے الٹا سڑکوں پر آ رہا تھا، گجر اور اورنگی نالے اوور فلو کر گئے۔ ہمارے ٹاؤنز کے اندر انٹر نالوں کی صفائی تو کی گئی اور پمپوں کے ذریعے پانی بھی نکالا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ نکالا گیا پانی ڈالا کہاں جائے؟امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لنڈی کوتل سڑک گزشتہ ایک سال سے کھدی ہوئی ہے، سعید غنی سے مسلسل رابطے میں ہیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ترقیاتی کام کے نام پر ٹاؤنز کو ایک پیسہ تک نہیں دیا گیا، ہم اپنے محدود وسائل کے ذریعے سارا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ بھی ایم کیو ایم کا حصہ ہیں، انہیں وفاق سے بات کرنی چاہیے۔ کے-4 منصوبہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں کی نااہلی کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکا۔ اسی طرح گلشن ٹاؤن میں ریڈ لائن منصوبے کیلئے تمام نالے توڑ دیے گئے ہیں جس سے سیوریج کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔