کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی ترقیاتی اسکیموں اور ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ایم کیو ایم پاکستان اور رکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی طحہٰ احمد خان نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار کھوڑو کو خط لکھا ہے، جس میں کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹینڈرنگ کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کے ایم سی کی 188 ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص اور استعمال ہونے والے 7 ارب 50 کروڑ روپے کی تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ رواں مالی سال کے دوران 15 سے 16 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی ٹینڈرز میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔طحہٰ احمد خان نے خط میں مزید مطالبہ کیا ہے کہ کے ایم سی کی ترقیاتی اسکیموں اور ٹینڈرنگ کے پورے عمل کی چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کے ذریعے انکوائری کرائی جائے تاکہ ٹھیکوں کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر ضروری مداخلت کا تعین کیا جاسکے۔
ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کا الزام
طحہٰ احمد خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے دعوے کیے جارہے ہیں، تاہم عملی طور پر ان منصوبوں کے نتائج شہریوں کو نظر نہیں آرہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی اسکیموں کے نام پر مخصوص افراد کی جیبیں بھری جارہی ہیں، جبکہ ترقیاتی ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مداخلت کے باعث سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی نہیں بنایا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کے ٹیکس کی رقم میں مبینہ بدعنوانی ہورہی ہے اور اربوں روپے کے ترقیاتی اخراجات کے باوجود شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
کراچی کے شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، طحہٰ احمد خان
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کے عوام آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن اور بدانتظامی کے باعث شہر کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں پر بھاری رقوم خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کو بنیادی مسائل سے نجات نہیں مل رہی۔