پنجاب کی سینئر وزیر اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بھارتی فلم ’دنگل‘ پر پابندی عائد کرنے کا پچھتاوا ہے۔
یہ بات انہوں نے حالیہ دنوں کامیڈین اور میزبان احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کہی۔
’ایک ایسا فیصلہ جس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے تھا‘
پوڈکاسٹ میں میزبان کے سوال پر کہ ’’ایسا کون سا فیصلہ تھا جس پر آپ کو سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے تھا؟‘‘، مریم اورنگزیب نے جواب دیا:’’مجھے لگتا ہے کہ فلم ’دنگل‘ پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی۔‘‘
فلم دیکھے بغیر پابندی لگائی
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:’’میں اسی دن وزیر اطلاعات بنی تھی، فلم سینسر بورڈ کے ساتھ ایک میٹنگ میں شریک ہوئی جہاں فلم پر پابندی کی وجوہات پیش کی گئیں اور اسی بنیاد پر پابندی لگا دی گئی۔‘‘انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس وقت فلم دیکھی بھی نہیں تھی۔
پابندی پر ندامت کا اظہار
مریم اورنگزیب نے کہا:’’ڈیڑھ برس بعد جب میں نے فلم دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ فلم تو خواتین کے حقوق، محنت اور جذبے پر مبنی ہے، اسے تو سپورٹ کرنا چاہیے تھا۔‘‘
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ:’’مجھے اب بھی اس پر پچھتاوا ہے۔‘‘
اس وقت بھارتی فلموں پر عمومی پابندی تھی
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارتی فلموں پر عمومی پابندی عائد تھی، اس ماحول میں ’دنگل‘ پر بھی اسی تناظر میں پابندی لگی، مگر بعد میں انہوں نے اس فیصلے کو غلطی تسلیم کیا۔
فلم ’دنگل‘ کا پس منظر
عامر خان کی فلم ’دنگل‘ 2016 میں ریلیز ہوئی تھی اور یہ بھارتی پہلوان مہاویر پھوگٹ اور ان کی بیٹیوں کی سچی کہانی پر مبنی ہے، جنہوں نے ریسلنگ میں عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا۔ فلم کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں تنقیدی و عوامی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مریم اورنگزیب کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے جاری ہیں۔ بعض صارفین ان کی ایمانداری کی تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے غلطی کا اعتراف کیا، جبکہ کچھ افراد یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیصلے بغیر تحقیق کے کیوں کیے جاتے ہیں؟