شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کا اہم اجلاس چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہوا، جہاں پاکستان کو سفارتی محاذ پر اہم کامیابی ملی، جبکہ بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کی کوشش ناکام:
ذرائع کے مطابق بھارت نے اجلاس کے دوران اپنے پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں اس کا کوئی ذکر شامل نہ کیا گیا۔
بھارتی وفد نے اجلاس کے شرکاء پر دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی، مگر کسی رکن ملک نے بھارتی مؤقف کی حمایت نہ کی۔
بھارتی وفد کا ردعمل:
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، جو اجلاس میں شریک تھے، اعلامیے میں بھارتی مطالبات شامل نہ ہونے پر شدید ناراض ہوئے اور
"اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔"
بھارتی میڈیا نے بھی اس صورتحال کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ راج ناتھ سنگھ کی ناراضی کی اصل وجہ یہ تھی کہ:
اعلامیے میں پہلگام واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا
بلوچستان میں بھارت کے کردار کا اشارہ مشترکہ اعلامیے میں موجود تھا
پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر:
پاکستانی وفد نے اجلاس میں امن، تعاون اور خطے میں استحکام پر زور دیا اور بھارتی الزامات کو من گھڑت اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا۔پاکستانی سفارتکاری نے رکن ممالک کے ساتھ مربوط مشاورت کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈا ناکام بنا دیا۔
اجلاس میں شریک ممالک:
اجلاس میں چین، روس، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، کرغزستان سمیت دیگر رکن ممالک کے وزرائے دفاع نے شرکت کی اور خطے میں سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
پس منظر اور اہمیت:
SCO جیسے علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھارت کا اعلامیے سے دستبردار ہونا:
سفارتی تنہائی کا اشارہ ہے
اور پاکستان کے لیے علاقائی حمایت کا واضح مظہر
نتیجہ:
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی پوزیشن کو تقویت ملی جبکہ بھارت تنہا اور ناکام دکھائی دیا۔اجلاس نے واضح کیا کہ علاقائی ممالک یکطرفہ الزامات کی سیاست کے بجائے تعاون، مکالمے اور استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔