پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی حکومت پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدے سے نکلنے کے لیے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، اور یہ سب کچھ مودی سرکار کے میڈیا تھیٹر کا حصہ ہے۔
ثبوت فراہم نہ کرنے پر سوالات:
شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ:بھارت نے تاحال پہلگام حملے میں پاکستان کے مبینہ کردار کے کوئی ٹھوس ثبوت بین الاقوامی میڈیا یا برادری کے سامنے نہیں رکھے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی بھارت سے ثبوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسلام آباد کی جانب سے غیرجانبدار تحقیقات کی پیشکش کو بھی نظر انداز کیا گیا، جو نئی دہلی کی خاموشی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر بھارتی اقدامات:
شیری رحمٰن نے واضح کیا کہ:بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور غیر قانونی آبی تعمیرات پہلے ہی جاری ہیں۔پاکستان ان اقدامات کو متنازع قرار دیتا رہا ہے، لیکن بھارت نے آبی جارحیت کو سیاسی ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کو یہ سب کچھ صرف بہار اور دیگر ریاستوں میں انتخابی فائدے کے لیے درکار ہے، جبکہ طویل مدتی نقصان بھارت کو ہی ہوگا۔
سیاسی مقصد کے لیے پانی کو ہتھیار بنانا:
پی پی پی رہنما نے اس بیانیے کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہ:"پانی کو جنگی ہتھیار بنانا مودی کے الیکشن بیانیے کا حصہ ہے، مگر یہ خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دے گا۔"یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد مسلسل پاکستان مخالف بیانات دیے جا رہے ہیں، اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔