پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا وسیع کارروائیوں کا آغاز

پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا وسیع کارروائیوں کا آغاز

​مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر مسلح حملے کے بعد بھارتی فوج نے مقامی کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی فوج نے سرینگر، اننت ناگ، کلگام، پلوامہ، شوپیاں، گندربل اور بڈگام سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کے دوران 1500 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔​یہ کارروائیاں اس وقت کی جا رہی ہیں جب بھارتی حکام پہلگام حملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں، جس میں 28 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری "کشمیر ریزسٹنس" نامی ایک غیر معروف گروپ نے سوشل میڈیا پر قبول کی ہے، تاہم بھارتی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف کارروائیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ مقامی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔​واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی اور کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔​