پہلگام حملہ: سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی بھارتی کوشش بے نقاب

پہلگام حملہ: سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی بھارتی کوشش بے نقاب

بھارتی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی پہلگام حملے میں سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔

 امت شاہ نے کل جماعتی اجلاس میں الزام عائد کیا تھا کہ پہلگام کے بیسراں سبزہ زار کو پولیس اجازت نامہ لیے بغیر ہوٹل مالکان نے سیاحوں کے لیے کھولا تھا، جس کے باعث سیکیورٹی کا بندوبست نہیں ہو سکا۔تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے امت شاہ کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بیسراں سیاحتی مقام پر جانے کے لیے کسی پولیس اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ بیسراں سال بھر کھلا رہتا ہے اور وہاں داخلے کے لیے صرف 35 روپے کا ٹکٹ درکار ہوتا ہے۔اہلکار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی کی ذمہ داری لیفٹننٹ گورنر اور بھارتی وزارتِ داخلہ کے ماتحت اداروں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ نجی ہوٹل مالکان پر۔

علاوہ ازیں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) نے انکشاف کیا کہ حملے کے ایک گھنٹے بعد پہلا اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچا، جب کہ ڈیڑھ گھنٹے بعد مزید فورسز مدد کے لیے پہنچیں، جس سے بھارتی سیکیورٹی نظام کی شدید ناکامی ظاہر ہوئی۔واضح رہے کہ منگل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 26 سیاح ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے نے بھارت کے سیکیورٹی دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔