بجٹ 2025-26: بلاول بھٹو کی زیر صدارت اجلاس، پیپلز پارٹی کا بجٹ کی حمایت کا اعلان

بجٹ 2025-26: بلاول بھٹو کی زیر صدارت اجلاس، پیپلز پارٹی کا بجٹ کی حمایت کا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے تمام ارکان مالیاتی بل 2025-26 کے حق میں ووٹ دیں گے۔

 پارٹی قیادت نے اس فیصلے کی بنیاد وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پر مشاورت اور تحفظات دور کیے جانے کو قرار دیا۔

پیپلز پارٹی کے مطالبات اور حکومتی ردعمل:
پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:"چیئرمین بلاول بھٹو نے واضح ہدایت دی ہے کہ بجٹ کی منظوری کے وقت پارٹی ارکان قومی اسمبلی میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔"شازیہ مری کے مطابق پیپلز پارٹی نے بجٹ سے متعلق جو اہم تجاویز اور مطالبات پیش کیے، ان میں سے اکثریتی نکات کو حکومت نے منظور کر لیا۔ ان میں نمایاں نکات درج ذیل ہیں:

 1. بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ
پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا
حکومت نے اس مطالبے کو مانتے ہوئے 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے
 2. سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی
بلاول بھٹو نے سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی مخالفت کی تھی
حکومت نے یہ ٹیکس 50 فیصد کم کر دیا، یعنی اب یہ صرف 9 فیصد رہ گیا ہے
 3. تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
پارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کے لیے ریلیف کا مطالبہ کیا
حکومت نے تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا
 4. ٹیکس سلیب میں نرمی
مشاورت سے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں اہم تبدیلی کی گئی
اب ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لگے گا
 5. سندھ کی جامعات کا بجٹ بحال
پیپلز پارٹی کے اصرار پر سندھ کی جامعات کے لیے مختص بجٹ کو بحال کر دیا گیا
 6. ایف بی آر قوانین میں ترامیم
فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق قوانین پر پارٹی کے تحفظات کو بھی دور کر دیا گیا ہے
 سیاسی اہمیت:
شازیہ مری نے کہا کہ:"جب حکومت نے ہمارے تحفظات دور کر دیے اور ضروری ترامیم کر دیں، تو ہماری پارٹی نے بجٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ عوامی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے۔"