ویب ڈیسک: پاکستان کے دو ایتھلیٹس شاذل احمد اور ندیم علی جرمنی میں ایک بین الاقوامی ایونٹ کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں سے 24 جولائی کے بعد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس کے باعث پاکستانی اسپورٹس حکام اور ایونٹ منتظمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فون مسلسل بند ہیں اور وہ نہ ہی ٹیم کے آفیشلز سے رابطے میں ہیں اور نہ ہی مقامی منتظمین سے۔ حیران کن طور پر شاذل احمد اور ندیم علی کے پاسپورٹ، ویزہ اور دیگر اہم سفری دستاویزات ٹیم مینجمنٹ کے پاس موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے قانونی طور پر جرمنی چھوڑنے کے امکانات کم ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ اگر دونوں ایتھلیٹس اگلی صبح تک اپنی رہائش گاہ پر واپس نہ آئے تو ان کی باقاعدہ گمشدگی کی رپورٹ جرمن حکام کے پاس درج کروا دی جائے گی۔واضح رہے کہ پاکستانی ایتھلیٹس کا وفد 27 جولائی کو وطن واپسی کے لیے کنفرم ٹکٹ حاصل کر چکا ہے، تاہم ان دو کھلاڑیوں کی اچانک اور پراسرار غیر موجودگی انتظامیہ کے لیے باعثِ پریشانی بن چکی ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی بین الاقوامی مقابلے کے دوران پاکستانی کھلاڑی بیرونِ ملک لاپتہ ہوئے ہوں۔ ماضی میں بھی متعدد ایسے واقعات ہو چکے ہیں، جن میں کھلاڑی یا آفیشلز واپس نہ لوٹ سکے اور بعد میں کسی یورپی ملک میں پناہ کی درخواست دیتے پائے گئے۔یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان کی اسپورٹس اتھارٹیز، امیگریشن نظام، اور کھلاڑیوں کی نگرانی سے متعلق انتظامات پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نہ صرف سخت پالیسیز اپنانی ہوں گی بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت اور ذاتی ذمہ داری کے حوالے سے بھی شعور بیدار کرنا ہو گا۔