بھارتی وزارت کھیل نے اپنے تازہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارت کو سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود دیگر کھیلوں میں سیاست کو شامل کرنے سے روکنا مشکل ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستانی ایتھلیٹس کو اپنے ملک آنے سے روکنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وزارت کھیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ایتھلیٹس کو کامن ویلتھ گیمز 2030 میں بھارت میں شرکت سے روکا گیا، تو اس سے انڈونیشیا جیسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کا یہ بھی موقف ہے کہ ایسا اقدام بھارت کے 2036 کے اولمپک گیمز کی میزبانی کے خواب کو بھی متاثر کرے گا، کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کھیلوں میں سیاسی مداخلت سے بھارت کا عالمی معیار اور اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ کھیلوں میں سیاسی اثرات سے بچا جائے، اور پاکستانی ایتھلیٹس کو کھیل کے میدان میں سیاست سے الگ رکھا جائے۔