ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کے ازدواجی تنازعے میں والدین اور شوہر کے بیانات بھی سامنے آ گئے

ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کے ازدواجی تنازعے میں والدین اور شوہر کے بیانات بھی سامنے آ گئے

سوشل میڈیا پرسنلیٹی اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے شوہر حارث کھوکھر کے ساتھ خراب ازدواجی زندگی کے حوالے سے انکشافات کے بعد اب حارث کھوکھر کے والد نے بھی اپنا بیان جاری کیا ہے۔

حارث کھوکھر کے والد کا موقف:
حارث کے والد نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ مردوں کے ساتھ عورتوں میں بھی مولاجٹ ہوتے ہیں اور ڈاکٹر نبیہہ علی خان بھی ایسی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حارث شادی سے پہلے اپنے دوستوں اور اپنی تنظیم YMA کے کام میں زیادہ وقت گزارتے تھے، شادی کے بعد وہ زیادہ تر گھر پر رہتے تھے اور نبیہہ علی خان کے ساتھ اکثر باہر جاتے تھے۔حارث کے والد نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نبیہہ علی خان کا کہنا کہ انہیں بیرون جانے کی اجازت نہیں تھی، بے بنیاد اور غیر منطقی بات ہے، کیونکہ خاندان میں پہلے بھی بہوئیں اور بیٹیاں موجود ہیں۔حارث نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو میں بھی کہا کہ نبیہہ علی خان شادی کے بعد گھر میں خوش تھیں اور ان کے ساتھ کھانے اور دیگر سرگرمیوں میں شراکتدار تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے درمیان اختلاف صرف اس بات پر تھا کہ حارث نے ایک بزنس شروع کیا اور نبیہہ چاہتے تھیں کہ وہ ہر جگہ انہیں ساتھ لے جائیں، جو ہر مرد کے لیے ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان کا موقف:
چند روز قبل ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے  اپنی ازدواجی زندگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:شادی کے دو ماہ بعد ہی انہیں شدید ذہنی اذیت، الزامات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔شوہر نے شادی کو شہرت کے لالچ میں کیا اور بعد میں انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی۔نبیہہ علی خان نے کہا کہ انہیں اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کرنے کی اجازت نہیں تھی، کھانے کے دوران شوہر کے ساتھ سکون سے بیٹھنے نہیں دیا جاتا تھا، اور ہر بات پر شک اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے الزام لگایا کہ شوہر اور سسرال نے انہیں ذہنی دباؤ، دھمکیاں اور تنہائی دی، جس سے ان کی صحت متاثر ہوئی اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔نبیہہ علی خان نے کہا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی گھر کو سنبھالنے اور ذمہ داریاں نبھانے کی، مگر اس کے باوجود انہیں عزت نہیں ملی اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا۔
موجودہ صورتحال:
حارث کھوکھر کے والد کا موقف ہے کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور نبیہہ علی خان نے خود گھر چھوڑا۔نبیہہ علی خان کا موقف ہے کہ انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی۔یہ تنازعہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیر بحث ہے اور دونوں جانب سے بیانات منظر عام پر آ رہے ہیں، جس سے عوام میں دلچسپی اور تبصرے بڑھ گئے ہیں۔