حارث کھوکھر کا ڈاکٹر نبیہا علی سے متعلق انکشاف، الزامات بھی بے بنیاد قرار دے دیے

حارث کھوکھر کا ڈاکٹر نبیہا علی سے متعلق انکشاف، الزامات بھی بے بنیاد قرار دے دیے

 ماہرِ نفسیات اور  میڈیا شخصیت ڈاکٹر نبیہا علی خان کی جانب سے سابق شوہر پر گھریلو تشدد اور نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد حارث کھوکھر نے پہلی بار عوامی سطح پر اپنا مؤقف پیش کر دیا ہے۔

نجی میڈیا ادارے کلک نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں حارث کھوکھر نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر جسمانی تشدد کا الزام درست نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر نبیہا علی خان خود بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ معاملہ جسمانی تشدد کا نہیں تھا۔ ان کے مطابق اس تاثر کے برعکس انہوں نے ہمیشہ اپنی سابق اہلیہ اور ان کے بیٹے کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔حارث کھوکھر نے کہا کہ ازدواجی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ ازدواجی زندگی کو بچانے کی خاطر الگ گھر بھی لیا تاکہ مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ شادی کے دوران انہیں اپنے اہلِ خانہ سے دور رکھا گیا۔ ان کے بقول، "مجھے بالکل اکیلا کر دیا گیا، جب بھی والدین سے ملنے جاتا تو ہر چند منٹ بعد فون آتے تھے۔"

حارث کھوکھر کا کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹر نبیہا علی خان کو ابتدا میں صرف پیشہ ورانہ حوالے سے جانتے تھے اور انہیں ان کے رویّے اور شخصیت کے دیگر پہلوؤں کا اندازہ نہیں تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل ڈاکٹر نبیہا علی خان نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سابق شوہر نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، جس کے باعث انہوں نے علیحدگی اور طلاق کا فیصلہ کیا۔دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مختلف دعوے کیے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع یا کسی عدالتی فیصلے کے ذریعے تصدیق نہیں ہوئی۔