پاکستان کے کسانوں کو نقصان ہو رہا ،جعلی دودھ کی سمگلنگ بند ہونی چاہئے
ہارٹیکلچر شعبے میں کیپسٹی بلڈنگ کیلئے 6 ارب 3 کروڑ قرض لیا جائیگا ، بریفنگ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ میں انکشاف کیا گیا کہ ایران سے جعلی دودھ پاکستان آرہا ہے اس سے پاکستان کے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے، چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام محمد علی نے بتایا کہ آلو کے بیج کی تیاری پر پاک کوریا مشترکہ پراجیکٹ پر تمام ٹیکنالوجی کوریا نے دی ہے، 15 ہزار ٹن آلو کا بیج سالانہ درآمد کیا جا تا ہے،2 لاکھ ساٹھ ہزار ٹن جی ٹو آلو کا بیج سالانہ پیدا کریں گے اپنی ورائٹیز بھی تیار کر لی ہیں، سالانہ 6 ارب روپے کا بیج ملک میں درآمد ہو تا ہے ،سید حسین طارق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں وزارت کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہارٹیکلچر کے شعبے میں کیپسٹی بلڈنگ کے لیے 6 ارب 3 کروڑ روپے کا قرض لیا جائے گا،یہ قرض 0.5 کی شرح سود پر لیا جا رہا ہے نیو ٹیک سے سرٹیفائیڈ تربیت یافتہ لوگ تیار کئے جائیں گے ،اس میں تربیت کے ساتھ کٹس بھی فراہم کی جائیں گی18 ہزار لوگوں کو تربیت دی جائے گی اس پر رکن کمیٹی کھیل داس نے کہا کہ اس سے تو ملک پر مزید قرض کا بوجھ بڑھے گاملک کا تو کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ،وزارت کے حکام نے اجلاس میں ہارٹیکلچر کے شعبے میں فصلوں کو محفوظ بنانے کے منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں سرمایہ کاروں کو 5 سال میں 4 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی ،رکن کمیٹی رانا حیات نے کہا کہ ایران سے جعلی دودھ پاکستان آرہا ہے ،ایران سے جعلی دودھ کی سمگلنگ بند ہونی چاہئے۔