عاقب جاوید نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی حمایت کی اور پاکستان کی طرف سے بہترین ٹیم سلیکٹ کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں آئی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ کرکٹ میں معذرت نہیں ہوتی، ہر میچ سے قبل ٹیم پر امید ہوتی ہے اور کھلاڑی اپنی کارکردگی سے افسردہ ہیں۔بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے عاقب جاوید نے کہا کہ اگر پاکستان 300 رنز بناتا تو میچ مزید دلچسپ ہو سکتا تھا، تاہم کم اسکور کی وجہ سے بولرز کو زیادہ حملہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے صائم ایوب اور فخر زمان کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق پڑا۔عاقب جاوید نے کہا کہ ون ڈے میں سات بیٹرز اور چار بولرز کا کمبی نیشن ہوتا ہے، اور چونکہ صائم ایوب بیٹنگ کے ساتھ اوورز بھی کروا سکتے تھے، ان کی جگہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی قرار دیا اور سعود شکیل کی محنت کو سراہا۔