جنوبی کوریا میں گزشتہ 9 سال کے دوران پہلی مرتبہ شرحِ پیدائش میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو کہ شادیوں میں اضافے کے باعث ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ برسوں میں جنوبی کوریا کی حکومت نے نوجوانوں کو شادی کرنے اور بچوں کی پیدائش کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں مالی ترغیبات اور معاونت فراہم کرنا شامل تھا۔اس کے باوجود، جنوبی کوریا اب بھی دنیا کا سب سے کم شرحِ پیدائش والا ملک ہے، جس کا اندازہ 2023ء میں ہونے والی مردم شماری سے لگایا گیا ہے، جس کے مطابق ملک کی آبادی 51.71 ملین ہے۔جنوبی کوریا میں 2014ء سے شرحِ پیدائش کو بڑھانے کے لیے مختلف اسکیمیں شروع کی گئی تھیں، جن میں ہر بچے کی پیدائش پر والدین کو 10 کروڑ کوریائی وان (تقریباً 77 ہزار ڈالر یا 2 کروڑ پاکستانی روپے) دینے پر غور بھی کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ، گزشتہ سال ایک تعمیراتی کمپنی نے اپنے ملازمین کو ترغیب دینے کے لیے فی بچہ ایک خطیر رقم بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، 2020ء میں جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش سے زیادہ شرحِ اموات کے باعث حکام کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا تھا۔