شرحِ پیدائش میں اضافے کے لیے ویتنام نے خاندانوں کے لیے نئی مراعات کا اعلان کر دیا

شرحِ پیدائش میں اضافے کے لیے ویتنام نے خاندانوں کے لیے نئی مراعات کا اعلان کر دیا

ویتنام نے کم ہوتی شرحِ پیدائش اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے پیشِ نظر خاندانوں کے لیے نئی مراعات کا اعلان کر دیا ہے۔

بدھ سے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے تحت دوسرے بچے کی پیدائش پر ماؤں کو 6 ماہ کے بجائے 7 ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی دی جائے گی۔حکومت نے قبل از وقت پیدائش اور نومولود بچوں کے طبی معائنے کے لیے سبسڈی دینے کے علاوہ مخصوص شرائط پوری کرنے والی ماؤں کے لیے ایک مرتبہ نقد بونس کا بھی اعلان کیا ہے۔اس اسکیم کے تحت اہل ماؤں کو زیادہ سے زیادہ 228 امریکی ڈالر تک کا بونس مل سکے گا، جو ویتنام میں اوسط ماہانہ تنخواہ کے تقریباً دو تہائی کے برابر ہے۔اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی ویتنام میں سربراہ فام تھی لان کے مطابق یہ پالیسی حکومتی سوچ میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت اب خاندانی منصوبہ بندی پر پابندیوں کے بجائے آبادی کی متوازن ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ویتنام میں کئی دہائیوں تک سرکاری ملازمین، خصوصاً کمیونسٹ پارٹی کے ارکان، کو تیسرے بچے کی پیدائش پر پابندیوں اور تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم حکومت نے گزشتہ سال یہ پابندیاں ختم کر دی تھیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ویتنام میں فی خاتون شرحِ پیدائش 1.93 بچے رہ گئی ہے، جو آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 بچوں کی شرح سے کم ہے، جبکہ اوسط عمر تقریباً 75 سال تک پہنچ چکی ہے۔

 اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط تک 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ملک کی ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل ہوں گے، جس کے بعد مجموعی آبادی میں کمی کا رجحان شروع ہو سکتا ہے۔ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش میں اضافہ نہ ہوا تو مستقبل میں افرادی قوت کی کمی اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ حکومت نے نئی مراعات کو اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صرف نقد بونس کافی نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائش، بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم اور دیگر اخراجات میں مستقل حکومتی معاونت کے بغیر شرحِ پیدائش میں نمایاں اضافہ ممکن نہیں۔ایک حالیہ سرکاری سروے کے مطابق 73 فیصد شادی شدہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کی آمدنی اور مالی حالات بچوں کی تعداد کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔