شمالی کوریا کے تین گھنٹے میں 2 بیلسٹک میزائل تجربے، جنوبی کوریا کا شدید ردعمل

شمالی کوریا کے تین گھنٹے میں 2 بیلسٹک میزائل تجربے، جنوبی کوریا کا شدید ردعمل

سیئول: شمالی کوریا نے تقریباً تین گھنٹوں کے دوران کم فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جس پر جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ پہلا میزائل اتوار کی سہ پہر شمالی کوریا کے ساحلی علاقے وونسان سے بحیرہ جاپان کی سمت داغا گیا۔ جنوبی کوریا کے مطابق میزائل نے تقریباً 450 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق پہلے میزائل کے تقریباً تین گھنٹے بعد شمالی کوریا نے ایک اور کم فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل فائر کیا۔ حکام نے دونوں تجربات کی نوعیت اور پرواز کے دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔جاپان نے بھی شمالی کوریا کے پہلے تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے بیلسٹک میزائل قرار دیا۔ جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) سے باہر سمندر میں گرا، جس کے باعث جاپانی حدود میں کسی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ کونسل نے پیانگ یانگ سے مطالبہ کیا کہ وہ میزائل سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی فوجی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکا اور جاپان سمیت اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جزیرہ نما کوریا میں فوجی سرگرمیوں اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات مسلسل موجود ہیں۔ تازہ تجربات کے بعد جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کی جانب سے مستقبل میں مزید میزائل سرگرمیوں کے امکان پر بھی نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔