ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب عاصم افتخار نے غزہ میں مکمل اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کا موقف اسرائیل کی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کے خلاف ایک واضح اپیل ہے، جس میں انسانی امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
فوری جنگ بندی کا مطالبہ
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ غزہ میں فوری اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت ہے تاکہ شہری زندگی کی بچت ہو سکے اور علاقے میں جاری دشمنی کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور اس بات پر اصرار کیا کہ جنگ بندی کے بغیر علاقے میں بدامنی کا تسلسل برقرار رہے گا۔
اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضہ
مندوب نے مزید خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی جڑ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی مغربی کنارے میں جاری جارحیت کو فوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ فلسطینی عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں اور جبری بے دخلی کے خلاف قدم اٹھایا جا سکے۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
عاصم افتخار نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق اس امن کی بحالی کے بغیر نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی درخواست کی، تاکہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کا عمل شروع ہو سکے۔
نتیجہ
پاکستان کا یہ موقف اقوام متحدہ میں جاری تنازعات اور کشیدگی کے تناظر میں ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کی اپیل نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔