غزہ میں انسانی بحران ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے، امدادی نظام ناکام: اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤقف

غزہ میں انسانی بحران ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے، امدادی نظام ناکام: اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤقف

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا قحط زدہ غزہ کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی، جہاں بھوک اور محرومی کے باعث فلسطینیوں کی اموات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران سنگین حد تک بڑھ چکا ہے اور موجودہ امدادی نظام ان لوگوں کو ناکام کر رہا ہے، جن کی خدمت کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔ "یہ نظام خود موت کا جال بن چکا ہے،" پاکستانی مندوب نے واضح کیا۔

 غزہ میں امداد کی فراہمی کی فوری اپیل
عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد، ایندھن، اور ضروری اشیاء کی بلا رکاوٹ فراہمی کو فوری یقینی بنایا جائے، خاص طور پر بچوں کے لیے دودھ اور ادویات کی قلت ناقابلِ دفاع حد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ نومولود بچے بھوک سے فوری موت کے خطرے میں ہیں، اور ایسی انسانی محرومی کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ زندگی بچانے والی اشیاء کی ترسیل میں حائل تمام رکاوٹیں فی الفور ختم کی جائیں۔

 ادویات، ایندھن، اور پناہ گاہوں کی شدید قلت
پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ غزہ میں ادویات، پناہ گاہوں، اور ایندھن کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، جس کے باعث:

اسپتالوں
پانی اور صفائی کے نظام
ٹیلی کمیونیکیشن
بیکریوں
ایمبولینسوں
اور امدادی سرگرمیوں
کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال غزہ کی 21 لاکھ آبادی کے لیے تباہ کن موڑ اختیار کر چکی ہے۔

 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے مجوزہ امن کانفرنس سے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

 اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکنان کی شہادت پر تشویش
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مئی کے آخر سے اب تک 798 امدادی کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 615 افراد امدادی مراکز میں یا ان کے قریب مارے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف خطرناک ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑی آزمائش ہے۔

 امدادی نظام کی عسکری شکل انسانی اقدار کے منافی ہے
پاکستان نے متنبہ کیا کہ غزہ میں موجودہ امدادی نظام کو عسکری دائرے میں منتقل کرنا بین الاقوامی انسانی قانون، غیرجانبداری، اور اقوامِ متحدہ کی بنیادی اقدار کے لیے خطرناک نظیر ہے۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کے نیوٹرل امدادی نیٹ ورک کی جگہ عسکری یا محدود کنٹرول والا نظام قائم کیا گیا، تو اس کے منفی اثرات مستقبل کے تنازعات میں عام شہریوں کی سلامتی پر بھی پڑیں گے۔

 پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ
آخر میں پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں جاری انسانی بحران پر خاموشی توڑیں، فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور فلسطینیوں کو زندگی گزارنے کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔