اقوام متحدہ میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور، اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار

اقوام متحدہ میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور، اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، جس میں اسرائیل اور حماس سے تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس قرارداد کے حق میں 193 میں سے 158 ووٹ پڑے، جبکہ امریکا، اسرائیل اور دیگر 7 ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ 13 ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ قرارداد میں غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے۔دوسری جانب، اسرائیل نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بند کرنے سے حماس دوبارہ حملے شروع کرسکتی ہے، اس لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس میں بیت لاہیہ اور نصیرات کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ تازہ حملوں میں مزید 29 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جس کے بعد غزہ میں مجموعی شہادتوں کی تعداد 44,787 ہوگئی ہے۔غزہ میں انسانی بحران سنگین ہو چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات اور خوراک کی شدید قلت ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے دوران شمالی غزہ میں تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود، زمینی حقائق میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے، اور غزہ کے عوام ایک مشکل اور خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔