جوہرٹائون:نئی سیوریج لائن کامنصوبہ ادھورا

 حفاظتی تدابیر نظر انداز اور درخت بھی کاٹے جانے کا انکشاف 
لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور کے پوش علاقے جوہر ٹائون کی خیابانِ فردوسی میں سیوریج لائن ڈالنے اور ترقی کا وعدہ تاخیر کی نذر ہو گیا، سیوریج لائن کا منصوبہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود تاحال ادھورا ہے۔ منصوبے پر تعمیراتی کام کرتے ہوئے حفاظتی تدابیر کو نظر انداز اور درخت بھی کاٹے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق خیابانِ فردوسی پر پرانی اور خستہ حال سیوریج لائن میں پڑنے والے خطرناک شگاف کے بعد نئی سیوریج لائن بچھانے کا کام شروع کیا گیا۔حکام نے اعلان کیا کہ منصوبہ وقت سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور دس دسمبر دو ہزار پچیس کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی، تاہم یہ وعدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ذرائع کے مطابق منصوبہ مقررہ وقت سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ زمینی سطح پر کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔ فزیکل پراگریس اب بھی پچھتر فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی اور منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید تین سے چار ماہ درکار ہونے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔تاخیر کے ساتھ ساتھ تعمیراتی عمل میں ضابطوں کی کھلی خلاف ورزیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اللہ ہو گول چکر اور شوق چوک کے اطراف جاری کھدائی پر حفاظتی شیٹس نصب نہیں کی گئیں، جس کے باعث کھلے گڑھے شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔سموگ کے پیشِ نظر جاری حکومتی ہدایات کے باوجود تعمیراتی مقامات پر پانی کے چھڑکائو کا عمل نظر نہیں آ رہا، جس سے فضائی آلودگی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماحولیاتی قوانین کو نظر انداز کیے جانے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔منصوبے کے دوران درختوں کی کٹائی کا بھی انکشاف ہوا ہے، تاہم ماحولیاتی ضوابط کے مطابق ٹرانسپلانٹیشن کا عمل مکمل نہیں کیا گیا۔ کٹے ہوئے درختوں کی شاخیں اب بھی مرکزی سڑک پر موجود ہیں جو نہ صرف بدانتظامی بلکہ شہری مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔