70فیصد اہم سروسز ابھی تک ای بز پورٹل کا حصہ نہیں بن سکیں
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب حکومت کا ڈیجیٹل گورننس کا بڑا دعویٰ، ای بز پورٹل کے ذریعے عوامی درخواستوں کو آن لائن کرنے کا اعلان،شہریوں کو ریلیف دینے کا منصوبہ ادھورا، روایتی دفتری نظام بدستور غالب ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایل ڈی اے کی محض تیس فیصد سروسز ہی آن لائن کی جا سکی ہیں، جبکہ ستر فیصد اہم سروسز ابھی تک پورٹل کا حصہ نہیں بن سکیں۔فی الوقت ٹاو ن پلاننگ سے متعلق محدود سہولیات ہی آن لائن دستیاب ہیں، جن میں ہائوسنگ سکیموں کے نقشہ جات کی منظوری، نقشہ فیس کی ادائیگی اور کمپلیشن سرٹیفکیٹ کا اجرا شامل ہے۔ تاہم کنٹرولڈ ایریا سے متعلق درخواستوں کی آن لائن جمع آوری کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔اسی طرح ایل ڈی اے حدود میں رجسٹری سے متعلق درخواستوں کو بھی آن لائن سسٹم میں شامل نہیں کیا جا سکا، جبکہ این او سی کے اجرا، ٹرانسفر لیٹر، بلڈنگ پیریڈ میں توسیع اور فائل شفٹنگ جیسے اہم معاملات بھی ای بز پورٹل سے غائب ہیں۔ انجینئرنگ سے متعلق شکایات درج کرانے یا نئے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کیلئے بھی کوئی مربوط آن لائن نظام موجود نہیں۔حکومت کی جانب سے ‘‘ون ونڈو آپریشن’’ کے دعوے کے باوجود شہریوں کو مکمل سہولت میسر نہیں آ سکی اور انہیں اب بھی روایتی دفتری نظام پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ای بز پورٹل پر تمام سروسز کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے تو نہ صرف شفافیت میں اضافہ ممکن ہے بلکہ درخواستوں کی پراسیسنگ بھی تیز ہو سکتی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے اس بڑے منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے فوری اپگریڈ اور تمام محکموں کی مکمل شمولیت ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔