26ویں ترمیم پر اختلاف کے باوجود مطالبات سے نکال دیا: شبلی فراز

26ویں ترمیم پر اختلاف کے باوجود مطالبات سے نکال دیا: شبلی فراز

تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی و 26 نومبر کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینا ان کے مطالبات کا حصہ ہے۔

 انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔شبلی فراز نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف پاکستان کا مثبت تاثر قائم رکھنے اور مسائل کے حل کی خواہاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے اور کم سے کم مطالبات پیش کیے ہیں تاکہ معاملات کو سنجیدگی سے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے اور مناسب ماحول پیدا کرکے مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔

اہم مطالبات اور اختلافات
شبلی فراز نے مزید کہا کہ ان کے مطالبات میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام شامل ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے کو مطالبات کی فہرست سے نکال دیا ہے تاکہ بات چیت میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔انہوں نے زور دیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات مسائل کے حل کی کنجی ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور تحقیقاتی کمیشن کے قیام سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔

مذاکرات کی اہمیت
شبلی فراز نے کہا کہ تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ ملک میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی استحکام اور اعتماد کی فضا قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو۔