26ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے:حافظ نعیم الرحمٰن

26ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے:حافظ نعیم الرحمٰن

حافظ نعیم الرحمٰن، نے حالیہ خطاب میں 27 ویں ترمیم کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی اور غیر یقینیت کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کی طرح 27 ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں چل رہا کہ اس میں اصل میں کیا تبدیلی یا شامل ہے، یعنی اس ترمیم کی تفصیلات عوام اور سیاسی حلقوں کے لیے واضح نہیں ہیں۔مردان میں وکلاء سے خطاب کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے بتایا کہ 26 ویں ترمیم کا مسودہ دو مختلف حکومتوں کے پاس تھا، جن میں ایک مولانا فضل الرحمٰن کے پاس تھا اور دوسری حکومت کے پاس بھی ایک اور مسودہ موجود تھا، جس سے یہ بات واضح ہے کہ ترمیم کی اصل نوعیت اور منظوری کا عمل شفاف نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اصل ترمیم کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں اور اس کا اصل مقصد کیا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

انہوں نے عدلیہ کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام میں پیوند کاری کی بجائے اسے مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کے بجائے صرف سطحی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جو کہ نظام کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتی۔حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت میں غالب اکثریت فارم 47 والوں کی ہے، یعنی انتخابی عمل میں دھاندلی اور روک ٹوک کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اصل اختیار اور فیصلہ ساز قوتیں منتخب حکومت کے بجائے حکومتی اداروں اور طاقتور حلقوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس تنقید کا مقصد حکومت کے انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی نمائندگی پر سوال اٹھانا ہے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اب پارٹی سیاست کے بجائے عوام کے ساتھ اتحاد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مقصد عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اور عوامی مسائل کو حل کرنا ہے، تاکہ جمہوریت کو مضبوط اور حقیقی معنوں میں عوام کی مرضی کے مطابق بنایا جا سکے۔ یہ موقف اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ جماعت اسلامی دیگر سیاسی جماعتوں سے علیحدہ ہو کر عوامی بنیادوں پر سیاست کرے گی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کرے گی۔