اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہوں گے، سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور وزرا کی تعداد پر بھی سوالات اٹھائے۔
حکومت پر شدید تنقید
شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وزرا کی فوج لے کر آئی ہے، لیکن چاہے 10 وزیر ہوں یا 100، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے مطابق ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال خراب ہے، جبکہ حکومت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر حربہ آزما رہی ہے۔
"لوٹوں" پر سخت بیان
انہوں نے حکومت میں شامل بعض وزرا کو "لوٹے" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کا سودا کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی اقتدار کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
پرامن کنونشن کو سبوتاژ کرنے کا الزام
شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کنونشن بہت کامیاب رہا، لیکن حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خود پر اعتماد نہیں، اسی لیے وہ کانفرنس کے انعقاد سے ڈر رہی تھی۔
نئے سیاسی اتحاد کا عندیہ
شبلی فراز نے انکشاف کیا کہ ملک میں ایک نیا اتحاد بننے جا رہا ہے، جو آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف پی ٹی آئی کی نہیں، بلکہ ملک کی بقا کی جنگ ہے۔
پیپلز پارٹی پر سخت تنقید
پیپلز پارٹی سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ "ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ کیسے صلح کر سکتے ہیں؟ انہوں نے تو ملک کو لوٹا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی، اور 26ویں آئینی ترمیم بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ تھی۔
9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کا مطالبہ
شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات سیاسی نہیں، بلکہ قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے تاکہ سچ عوام کے سامنے آ سکے۔
"اقتدار میں بیٹھے لوگ دو نمبری سے آئے ہیں"
آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت 9 مئی کے پیچھے چھپ کر اقتدار میں بیٹھی ہوئی ہے، لیکن فیصلہ ایک نیوٹرل امپائر کو کرنا ہے، اور اقتدار میں موجود افراد کسی بھی غیر جانبدار فیصلے سے گھبراتے ہیں۔