سنی اتحاد کونسل نے چھبیسویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم غیر آئینی، غیر قانونی اور ناقابل عمل ہے۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے آئین کی بنیادی خصوصیات اور اقدار کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی اور بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ چھبیسویں ترمیم آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت غیر قانونی ہے، کیونکہ اس میں آئین کی اہم خصوصیات کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے مختلف سیکشنز، جیسے کہ 7، 10، 14، 17، 21 اور 27 کو غیر آئینی قرار دیا جائے، کیونکہ ان میں آئین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اس درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ہونے والے تمام فیصلوں، نوٹیفکیشنز اور تقرریوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
سنی اتحاد کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ چھبیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے جبری اقدامات اور غیر قانونی طریقے اختیار کیے گئے ہیں، اور اس کے لیے آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ترمیمی ایکٹ 2024 اور سپریم کورٹ (ججز کی تعداد) ترمیمی ایکٹ 2024 کو بھی غیر آئینی قرار دیا جائے، کیونکہ ان میں عدالت کے اختیار اور ججز کی تعداد سے متعلق آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
سنی اتحاد کونسل کا موقف ہے کہ چھبیسویں ترمیم آئین کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے اور عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے آئین کے بنیادی اصولوں اور شہریوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے تاکہ آئین کی روح اور ملک کی عدلیہ کی آزادی کو محفوظ رکھا جا سکے۔