افریقی ملک موزمبیق کی ایک جیل میں ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی میں 33 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ جھڑپیں جیل میں ایک متنازعہ واقعے کے بعد شروع ہوئیں، جس کے نتیجے میں قیدیوں نے بغاوت کر دی۔ اس دوران 1500 سے زائد قیدی جیل سے فرار ہو گئے، جس سے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
واقعات کی تفصیل:
ہنگامہ آرائی: مقامی میڈیا کے مطابق جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران قیدیوں اور جیل انتظامیہ کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں 33 افراد کی ہلاکت اور 15 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
قیدیوں کا فرار: اس دوران 1500 سے زائد قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جس سے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 150 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
لوٹ مار اور بدامنی: جیل کے اندر ہونے والے جھگڑے کے بعد مختلف علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے، جس نے ملک میں مزید بدامنی کو جنم دیا۔
پولیس کا ردعمل:
پولیس نے جیل کے اندر اور باہر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ مزید قیدیوں کے فرار کو روکا جا سکے اور ان کے ذریعے پھیلنے والی بدامنی کو کنٹرول کیا جا سکے۔سیکیورٹی فورسز نے خاص طور پر جیل کے آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے اور عوامی تحفظ کے لیے مزید اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔یہ واقعہ موزمبیق میں جیل کے نظام کی کمزوری اور قانون کی عملداری میں مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔