اسلام آباد میں 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش کردیا گیا، جس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابہ بھی جاری رہا۔
ایوان میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے اجلاس شروع ہوا، جس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مجوزہ ترمیم کا مسودہ پیش کیا، جس میں ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دینے، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے، اور دیگر اہم تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔وفاقی کابینہ نے اس ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی میں تمام جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا اور اس کی سربراہی دونوں قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین مشترکہ طور پر کریں گے۔
اپوزیشن ارکان نے اس ترمیم کے خلاف اظہار خیال کیا اور اسے اتفاق رائے سے پیش نہ کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے اس قانون سازی کے طریقہ کار اور شفافیت پر اعتراض اٹھایا، اور زور دیا کہ سب کو شامل کرکے اتفاق رائے سے ترمیم لائی جائے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ مفصل بحث کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، اور قائد حزب اختلاف کی تقرری چیئرمین سینیٹ کا اختیار ہے۔بعد ازاں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قانون و انصاف کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں اس اہم ترمیم پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔