بھارت کے شہر احمدآباد میں ایک نجی اسکول کے نویں جماعت کے طالب علم نے اپنے ساتھی، دسویں جماعت کے 15 سالہ طالب علم کو چاقو کے وار سے قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد سندھی برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور اسکول کے علاوہ علاقے میں ہنگامہ آرائی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دسویں جماعت کے طالب علم کے قتل کے بعد متعدد علاقائی، سیاسی اور مذہبی تنظیمیں واقعے پر سخت ردِ عمل کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں احمدآباد میں صورتحال قابو سے باہر ہو گئی، جس پر پولیس نے بھاری نفری تعینات کر دی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔احمدآباد پولیس نے نویں جماعت کے طالب علم کو فوری طور پر حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی دباؤ اور تشدد کی عکاسی کرتے ہیں، اور اس کے روک تھام کے لیے اسکولوں اور والدین دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ حکام نے علاقے کے عوام سے امن قائم رکھنے اور افواہوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔