اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی کی نجکاری کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار پاور حکام پر برہم ہوگئے اور کہا وزیر توانائی آ کر ہمیں بریفنگ دیں، ہر ریجن کا فیڈ بیک دیں، نجکاری کے حکام نے بتایا پی آئی اے کی نجکاری کیلئے چار کنسورشیم نے سٹیٹمنٹ جمع کرائی، سال کی آخری سہ ماہی میں بولی کی کوشش ہے، لائیو بڈنگ ہوگی۔ فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس میں پاور حکام کا موقف تھا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں لوڈ مینجمنٹ کے مسائل ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا واپڈا کو سنتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں، کمیٹی بریفنگ لے کر مطمئن ہو جاتی ہے، زمینی حقائق کچھ اور ہیں، کئی جگہ لوڈ شیڈنگ ہے، بلوچستان سے روزانہ شکایات آ رہیں،لوگ چیخ رہے ہیں، پینے کا پانی بھی نہیں مل رہا۔ اگر ایک فیڈر میں دس لوگ بل نہیں دے رہے تو باقی لوگوں کا کیا قصور ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا آپ کی بچت کا راستہ یہی کہ اپنی نا اہلی مان لیں، بتائیں یہ سب آپ کی نا اہلی کی وجہ سے ہے۔ صبا صادق نے کہا پنجاب کے دیہات سے میں 8تا 10گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے۔ پاور حکام نے بریفنگ میں بتایا ہم نے تو پنجاب میں 4گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا کہا ہوا ہے۔ وزارت نجکاری کے حکام کا قومی ایئر لائن کی نجکاری نے معاملہ پر کہنا تھا کہ چار کنسورشیم نے اپنی سٹیٹمنٹ جمع کرائی ہے، ان کمپنیوں کو ڈیٹا روم تک رسائی دی، سائٹ وزٹ کرائے جا رہے، کوشش ہو گی سال کی آخری سہ ماہی میں قومی ایئر لائن کی بولی کر لیں، کسی بھی اعتراض کو دیکھا جائے گا، بڈنگ لائیو ٹیلی کاسٹ ہوگی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا وزارت حلف دے کسی ایک کمپنی کی طرف داری نہیں کی جائے گی۔حکام نے کہا طرف داری کے متحمل نہیں، اس سے سارے نجکاری عمل پر سمجھوتا ہو جائے گا۔