ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ تیز، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ تیز، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

ویب ڈیسک:پاکستان میں مون سون بارشوں کا آٹھواں اسپیل جاری ہے جس کے دوران مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا۔

کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جبکہ حادثات میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بارشیں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔

لاہور میں حادثہ
لاہور میں بارش کے دوران ایک گھر کی چھت گرنے سے خاتون سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔

پنجاب کے دیگر علاقے
پنجاب کے مختلف شہروں پتوکی، شیخوپورہ، مریدکے، کامونکی، ڈسکہ اور سمبڑیال میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔قصور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا جبکہ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق:

کشمیر اور شمال مشرقی پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش کا امکان ہے۔بالائی خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان کے بعض علاقوں میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
بونیر میں صورتحال
بونیر میں حالیہ سیلاب کے باعث بہہ جانے والے 13 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ 10 روز میں 296 افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

گلگت بلتستان اور غذر کی صورتحال
غذر کے علاقے تالی داس میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔ شاہراہ غذر کی بحالی کے لیے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم دائن پل کی بحالی نہ ہونے کے باعث 3 ہزار کی آبادی شہر سے کٹ کر رہ گئی۔صوبائی حکومت نے متاثرین کو عارضی کشتیوں کے ذریعے نقل و حرکت کی سہولت فراہم کی ہے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون سے متبادل گاؤں آباد کیے جائیں گے تاکہ لوگوں کو محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔