سی پیک منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائیگی شہبازشریف
سی پیک پر پیش رفت نہ کرنے والی وزارتوں اور اداروں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں تاکہ تاخیر کے اسباب کا تعین کیا جا سکے‘ تمام وزارتیں منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں
بی آئی ایس پی بے نظیر بھٹو شہید کے وژن کاعکاس ہے، جو اس پروگرام کے حقدار ہیں، انہیں بہت شفاف طریقے سے یہ رقوم اس نئے اور جدید نظام کے ذریعے گھر بیٹھے مل جائیں گی:تقریب سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) وزیراعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری متعدد ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق، کئی اہم منصوبوں کی تکمیل کی مقررہ مدت گزر چکی ہے جبکہ متعدد شعبے تاخیر کا شکار ہیں، جس پر وزیراعظم نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے سی پیک پر پیش رفت نہ کرنے والی وزارتوں اور اداروں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں تاکہ تاخیر کے اسباب کا تعین کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی پیک منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف اپنے آئندہ دورہ چین کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اور وہاں چینی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں زیرِ تکمیل منصوبے خاص طور پر زیر بحث آئیں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ طے شدہ ترقیاتی اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کا مقصد نہ صرف تاخیر کا ازالہ کرنا ہے بلکہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کر کے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ڈیجیٹل والٹ کا قیام اہم پیش رفت ہے، کیش لیس اکانومی سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔اسلام آباد میں بی آئی ایس پی کے تحت ڈیجیٹل والٹس کے قیام اور مفت موبائل سمز فراہمی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میں پروگرام کے چیئرمین، بی آئی ایس پی کی ٹیم اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل والٹ کا قیام اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پروگرام کی کامیابی میں سینیٹر روبینہ خالد اور سیکریٹری کا کردار لائق تحسین ہے، ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں بی آئی ایس پی کا اہم کردار ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ رمضان میں پہلی بار بی آئی ایس پی مستحقین میں رقوم کی ڈیجیٹل تقسیم ہوئی، ڈیجیٹل والٹ کا نظام کیش لیس معیشت میں اہم پیش رفت ہے، اس سے ملک تیزی سے ترقی کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور کی یہ اہم ضرورت ہے کہ ہم پوری معیشت کو جتنی جلدی کیش لیس اکانومی کی طرف لے جائیں گے، اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کام میں تیزی آئے گی اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی بے نظیر بھٹو شہید کے وژن کاعکاس ہے، محترمہ کی روح کو مزید آج تقویت ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ جو اس پروگرام کے حقدار ہیں، انہیں بہت شفاف طریقے سے یہ رقوم اس نئے اور جدید نظام کے ذریعے گھر بیٹھے مل جائیں گی