غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا صدر شی جن پنگ کا ویژن ہمارے لیے مشعل راہ ، بدعنوانی اورغربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے:وزیر اعظم

پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری مل کر ترقی کریں گے:شہباز شریف

 بہت سی تبدیلیاں بھی آئیں لیکن ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ، ہماری منزل ایک ہے ،پاک چین دوستی اور تعلقات اتنے ہی دیرینہ ہیں جتنی کہ شاہراہِ ریشم ہے
پاک چین دوستی کی مشعل اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، آئیں مل کر ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا باب رقم کریں،تیانجن یونیورسٹی علم و دانش کی بہترین درسگاہ یونیورسٹی میں خطاب
تیانجن(آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد ، احترام اور پرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے،چین کے ساتھ مضبوط دوستی پر فخر ہے،پاکستان اور چین نے ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا صدر شی جن پنگ کا ویژن ہمارے لیے مشعل راہ ہے، بدعنوانی اورغربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے، ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے،پاک چین دوستی کی مشعل اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، آئیں مل کر ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا باب رقم کریں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار تیانجن یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران اور طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور ان کے وفد کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تیانجن یونیورسٹی میں موجودگی میرے لیے فخر کا باعث ہے، پہلی بار 2017 میں ، میں نے اس یونیورسٹی کا دورہ کیا تھااور پاکستانی اور چینی طلبا سے ملاقات کی تھی،تیانجن یونیورسٹی علم و دانش کی بہترین درسگاہ ہے، یونیورسٹی نے بہترین سائنسدان اور مفکر تیار کیے ہیں،یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا نے چین کی ترقی کے سفر میں بھرپور کردار ادا کیا ہے ،مجھے پاکستان طلباکی بڑی تعداد دیکھ کر خوشی ہوئی ہے،200 سے زائد پاکستانی طلبا تیانجن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں،میرا آپ کے لیے پیغام ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو موقع دیا ہے اس عظیم درسگاہ سے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں، پاکستان کا عظیم سفیر ہونے کے ناطے محنت سے تعلیم حاصل کریں ،وقت کی پابندی کریں ہمیں آپ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ آپ پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،پاکستان اور چین کی دوستی کو فروغ دیں گے جس دوستی کی بنیاد ہماری پہلی نسلوں نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد ،احترام اور پرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے ہماری دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں لیکن ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے ، ہماری منزل ایک ہے ،پاک چین دوستی اور تعلقات اتنے ہی دیرینہ ہیں جتنی کہ شاہراہِ ریشم ہے، پاکستان اور چین تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،یہ ہمارا واضح ویژن ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے گی،شاہراہ قراقرم دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا عظیم منصوبہ ہے،پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، 60 سال قبل بیجنگ جانے والی پہلی بین الاقوامی پرواز کراچی سے روانہ ہوئی،وزیراعظم نے کہا کہ عظیم شاعر مشرق علامہ محمد اقبال چینی قوم کی قابلیت اور صلاحیتوں کو جانتے تھے ، شاعر مشرق نے ایک صدی قبل چین کی ترقی کی پیش گوئی کی تھی،چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور ہمیں بحیثیت پاکستانی اس پر فخر ہے، چین نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو خط غربت سے نکالا ہے یہ ایک بہت بڑی کامیابی اور دنیا کے لیے ماڈل ہے،چین آج دنیا کی ایک بڑی معاشی و فوجی طاقت ہے، ہمیں چین کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی پر فخر ہے، چین کے ویژنری لیڈر صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی کے ویژن نے دنیا کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے،پاکستان صدر شی جن پنگ کے ویژن اور فلسفے کی مکمل حمایت کرتا ہے،عوام کی فلاح و بہبود چین کی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ مشترکہ خوشحالی ،ترقی کے فروغ اور بدعنوانی کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں یہی میری پاکستان میں پالیسی ہے،میری حکومت کے خلاف ایک پیسے کی کرپشن کا الزام بھی نہیں ہے،شفافیت اوران تھک محنت قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے، غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا صدر شی جن پنگ کا ویژن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔قبل ازیں وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی آیات کی تلاوت سے کیا۔وزیر اعظم نے یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا سے ملاقات کی ، وزیراعظم کو جامعہ کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی،وزیراعظم کو بتایا گیا کہ تیانجن یونیورسٹی کا شمار چین کی قدیم درس گاہوں میں ہوتا ہے،یونیورسٹی میں انجینئرنگ، سائنس ،مینجمنٹ ،قانون، آرٹس اور طب کی اعلی تعلیم دی جا رہی ہے،تیانجن یونیورسٹی کا چین کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ہے،پاکستان اور چین کے طلبا کے درمیان یونیورسٹی پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔