بھارت کی کسی بھی جارحیت پر قوم اور فوج بھرپور جواب دے گی: حافظ نعیم الرحمان

بھارت کی کسی بھی جارحیت پر قوم اور فوج بھرپور جواب دے گی: حافظ نعیم الرحمان

کراچی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے مختلف اقدامات سے پاکستان کے خلاف عملاً جنگ کا اعلان کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں پوری قوم کو متحد ہوکر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

کراچی میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، جنرل سیکرٹری امیر العظیم اور شکیل ترابی سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج پورے ملک میں اسرائیلی مظالم کے خلاف زبردست ہڑتال جاری ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور اسرائیل کی جارحیت کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے جسے دنیا تسلیم کر چکی ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ جو قوتیں انسانیت کا دعویٰ کرتی ہیں وہ آج ظالم اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس عالمی قوانین کے تحت جائز مزاحمت کر رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور ان دونوں کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائیں، اب سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بات کر رہا ہے، جو کہ انتہائی غیر سنجیدگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو بھارت کی ان جارحانہ حرکتوں پر مؤثر ردعمل دینا چاہیے، آل پارٹیز کانفرنس طلب کرکے پوری قوم کو متحد پیغام دینا چاہیے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ ہڑتال میں بلوچستان سمیت ملک بھر سے عوام کی شرکت نے ثابت کر دیا کہ پوری قوم اسرائیل اور بھارت کے مظالم کے خلاف ہے۔انہوں نے بھارتی ڈرامہ بازیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بار بار جعلی حملے کروا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جیسا کہ پہلگام کا واقعہ تھا، مگر ہر بار اس کا جھوٹ بے نقاب ہوا ہے۔انہوں نے حکومت اور فوج پر زور دیا کہ وہ سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کریں۔ حافظ نعیم الرحمان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نیوکلیئر صلاحیت کا بھرپور دفاع کرنا ہوگا اور دنیا میں سفارتی سطح پر تیزی سے متحرک ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ برہمن سامراج مذاکرات سے کشمیر نہیں دے گا، کشمیر کے لیے لڑنا ہوگا، یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے۔