اکشے کمار نے حالیہ انٹرویو میں اپنی زندگی اور کیریئر کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر بات کی ہے۔
خاص طور پر، انہوں نے اپنی فلموں کے اثرات، ناظرین کی تنقید اور اپنی فنکارانہ جستجو پر روشنی ڈالی۔ ان کی باتوں سے یہ واضح ہوا کہ اکشے کمار نے ہمیشہ اپنی فلموں کے ذریعے سماجی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
فلموں کے اثرات اور سماجی تبدیلی: اکشے نے اپنی مشہور فلموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان فلموں نے معاشرتی سوچ میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر:
ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا کے ذریعے لوگوں میں گھروں میں ٹوائلٹ بنوانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔پدمن نے حیض جیسے موضوع پر عوامی سطح پر بات کرنے کا حوصلہ دیا، جس کے نتیجے میں بیٹیاں اپنے والدین سے سینیٹری پیڈز کے بارے میں کھل کر بات کرنے لگیں۔OMG 2 کے ذریعے انہوں نے سیکس ایجوکیشن جیسے حساس موضوع کو عوام میں عام کیا۔
تنقید اور تعریف کا اثر: اکشے کمار نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ناظرین کی طرف سے ملنے والی تعریف یا تنقید دونوں ہی انہیں آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "جب لوگ کہتے ہیں ’کچھ الگ کرو‘ تو وہ جملہ دل میں چبھتا ہے، مگر میں اسے سنجیدگی سے لیتا ہوں اور پھر کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔" اس کے علاوہ، اکشے نے یہ بھی کہا کہ اگر تنقید دل سے کی جائے تو وہ انسان کو بہتر بناتی ہے، کیونکہ اس سے ترقی کے امکانات بڑھتے ہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا خوف: اکشے کمار نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خوف کا انکشاف کیا، جو کہ کسی بڑے حادثے سے زیادہ اہم تھا۔ ان کا کہنا تھا، "میرے سب سے بڑے خوف کا سامنا اس دن ہوگا جب میں اٹھوں اور میرے فون پر کوئی پیغام نہ ہو، اور مجھے یہ لگے کہ لوگ مجھے بھول چکے ہیں اور میری ضرورت نہیں رہی۔"کام کے بارے میں عزم: اکشے کمار نے اپنے کام کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تب تک آرام نہیں کریں گے جب تک وہ زندہ ہیں اور ان کی زندگی میں کام کا حصہ موجود ہے۔ اکشے نے کہا، "کام میری زندگی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ یہ زندگی بڑی ہو، نہ کہ مختصر۔ سیدھی سی بات ہے: میں تب تک کام کرتا رہوں گا جب تک مجھے گولی مار کر نہ روکنا پڑے!"