ویب ڈیسک: بھارت میں معروف صحافی برکھا دت اور بعض بھارتی میڈیا ادارے مسلسل جھوٹ پر مبنی دعوے کر رہے ہیں کہ پاکستانی ڈرونز جموں کے علاقے میں دیکھے گئے اور یہ پاکستان کی طرف سے سیز فائر کی مبینہ خلاف ورزی ہے۔
سوشل میڈیا پر برکھا دت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ کارروائی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر کے ردِعمل میں کی گئی۔
بھارتی فوج کی تردید:
تاہم ان دعوؤں کو خود بھارتی فوج نے جھوٹا قرار دے دیا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے:جموں یا دیگر سرحدی علاقوں میں کسی بھی پاکستانی ڈرون کی موجودگی رپورٹ نہیں ہوئی۔
صورتحال مکمل طور پر پُرامن اور کنٹرول میں ہے۔پاکستان کی طرف سے کسی بھی دراندازی یا خلاف ورزی کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا مؤقف:
دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے بھی ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا:پاکستان کی طرف سے سیز فائر کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے۔کوئی پاکستانی ڈرون نہ لائن آف کنٹرول پار کر رہا ہے اور نہ ہی ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔بھارتی میڈیا ایک بار پھر جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلا کر اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔
الزامات کا مقصد کیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق:بھارتی میڈیا ان جھوٹے دعوؤں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔مودی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور حکومتی بیانیے کے درمیان فاصلہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور میڈیا حکومتی پروپیگنڈے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
پس منظر:
بھارت کی جانب سے ماضی میں بھی پاکستان پر ڈرون، دراندازی اور سیز فائر خلاف ورزیوں کے جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جنہیں یا تو بعد میں خود بھارتی حکام نے رد کیا یا عالمی اداروں نے مسترد کر دیا۔
نتیجہ:
حالیہ صورت حال میں بھارتی فوج اور پاکستانی حکام دونوں کی مشترکہ تردید اس بات کی غماز ہے کہ بھارتی میڈیا اور بعض صحافی بے بنیاد افواہوں اور غلط بیانی سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔