وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق اجلاس میں عوام کو بہتر اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں پنجاب کے 300 مریم نواز ہسپتالوں کو مکمل ہسپتالوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صوبے میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل میڈیکل باکس متعارف کرانے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیکل باکس کو کیمرے سے منسلک کیا جائے گا، جس کے ذریعے ٹیلی کانفرنس کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ باکس میں الٹراساؤنڈ، بلڈ شوگر، سی بی سی اور ای سی جی سمیت مختلف طبی ٹیسٹ کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ موبائل فون سے منسلک ہونے والی اسمارٹ الٹراساؤنڈ ڈیوائس بھی متعارف کرائی جائے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ادارے کو ’’ہسپتال آف دی منتھ‘‘ کا اعزاز دینے کی ہدایت کی، جبکہ ناقص کارکردگی پر 4 ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فوری تبدیل کرنے کا حکم دیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 40 ہزار سے زائد ڈاکٹرز اور الائیڈ ہیلتھ اسٹاف کی بھرتی کی گئی ہے، جن میں 2,524 ڈاکٹرز، 2,482 ویمن میڈیکل آفیسرز، 408 کنسلٹنٹس، 32 کارڈیالوجسٹس، 7,572 ایل ایچ ویز اور 5,048 سپورٹ اسٹاف شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کا پول قائم کرنے، ہر ضلع میں نئی سی ٹی اسکین مشین فراہم کرنے اور موسمی و عام بیماریوں کے علاج کے لیے ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹر میں موجود ڈاکٹر سے مریض ویڈیو کال کے ذریعے طبی مشاورت کرسکے گا۔ اسی مرکز سے مریض کو متعلقہ ہسپتال، وارڈ یا لیبارٹری میں ریفر کرنے اور وقت لینے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں مریضوں کو فراہم کیے جانے والے معیاری علاج کے تجزیے کے لیے کلینک کوالٹی کنٹرول آفیسر تعینات کرنے، پرائمری ہیلتھ کیئر میں ڈائریکٹوریٹ آف مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس قائم کرنے اور تمام ڈی ایچ کیو، ٹی ایچ کیو، فیلڈ ہسپتالوں اور ’’کلینک آن ویل‘‘ کی 24 گھنٹے ڈیجیٹل نگرانی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی اور پارکنگ کے انتظامات مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیونٹی ہیلتھ مانیٹرنگ پروگرام کے تحت 11 کروڑ 98 لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن اور ڈیٹا مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ ٹائپ ون ذیابیطس کے 3,444 مریضوں کو ان کے گھروں تک ادویات فراہم کی گئیں۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس کے 14,286 اور ٹی بی کے 13,864 مریضوں کو بھی ادویات فراہم کی جاچکی ہیں۔
اجلاس میں پرائیویٹ کلینکس کو ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (HIMS) سے منسلک کرنے کے لیے قانون سازی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ صوبائی سیکرٹری پرائمری ہیلتھ نادیہ ثاقب نے اجلاس کو بریفنگ دی۔