وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم کابینہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں کل 27 نکات پر غور اور فیصلے کیے گئے۔اس اجلاس میں اسلام کوٹ سے چھوڑ اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اکتوبر 2025ء میں سندھ حکومت اور وزارت ریلویز کے درمیان ایم او یو طے ہوا تھا، جس کے تحت تھر سے کوئلے کی نقل و حمل کے لیے 105 کلومیٹر ریلوے لائن تعمیر کی جانی ہے۔مزید برآں، بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر کا ڈبل ٹریک ریلوے لائن بچھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کوئلے کی انلوڈنگ کی سہولت بھی پورٹ قاسم پر فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور وزارتِ ریلویز کے درمیان اس منصوبے میں شراکت داری ہے اور دونوں فریقین اس پر کام کر رہے ہیں۔کابینہ نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں ہونے والی فراڈ کی انکوائری اینٹی کرپشن کو سونپنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ، غریب گھرانوں کو سولر کٹس مفت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
کابینہ نے این آر ٹی سی انرجیز کو فی کٹ 219 امریکی ڈالر کے نرخ پر سولر انرجی کی کٹس درآمد کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے، اور اس مقصد کے لیے 5.518 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ایک لاکھ کٹس کی خریداری شامل ہے۔مزید برآں، 26 این جی اوز نے منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور پروپوزلز کا جائزہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ اس منصوبے کی شفاف، بروقت اور سخت نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے بچا جا سکے۔