لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر ہوم سیکرٹری پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔
جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کو 30 روز کے لیے جیل میں نظر بند کیا گیا ہے جبکہ جیل میں علیمہ خان کو ادویات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ عدالت نے ادویات کی عدم فراہمی سے متعلق معاملے پر الگ متفرق درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی۔حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے نظر بندی کے حکم کے خلاف ڈپٹی کمشنر لاہور سے نظرثانی کے لیے رجوع نہیں کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت میں نظر بندی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق بھی سوال اٹھایا گیا تھا اور درخواست گزار کے وکیل سے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے معاملے پر مزید دلائل طلب کیے گئے تھے۔درخواست میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر لاہور اور سی سی پی او لاہور سمیت متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ہوم سیکرٹری پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔