شیڈو ہوم سیکرٹری ضیاء یوسف نے برطانیہ میں نقاب پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔
ضیاء یوسف نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سی سی ٹی وی کی نگرانی کے باوجود بعض لوگ چہرہ ڈھانپ کر شناخت سے بچ سکتے ہیں، اس لیے نقاب پر پابندی قانونی اقدامات کے ذریعے عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی نسلی برادریوں کے انضمام میں مددگار ثابت ہوگی اور عوام کے لیے زیادہ محفوظ تصور کی جائے گی۔ڈوور میں ایک تقریب کے دوران نائجل فریگ نے بھی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ اگر کوئی شخص نقاب کا سہارا لے کر نگرانی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ قابلِ مزاحمت عمل ہے۔
یوسف نے اپنی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر نقاب پر پابندی کے حق میں ہیں، کیونکہ یہ عمل چہرہ چھپانے اور نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔نائجل فریگ نے حال ہی میں نیو کیسل میں ایک واقعہ کا ذکر کیا، جہاں ایک شخص نے ماسک پہن کر کھڑکی توڑی، جس سے شناخت مشکل ہوگئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس کے لیون شہر میں نقاب پوش افراد نے ایک طالبعلم کو ہلاک کیا، اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے نئی قانون سازی ضروری ہے۔