علیمہ خان اور ڈرائیور کی نظر بندی؛ درخواست کی سماعت کے لیے فیصلہ محفوظ

علیمہ خان اور ڈرائیور کی نظر بندی؛ درخواست کی سماعت کے لیے فیصلہ محفوظ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست کی سماعت جسٹس عہبر گل خان نے کی۔

درخواست شہری شہریز خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے وکلا تیمور اور عرفان کلار عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ خان نے کی۔سماعت کے دوران جسٹس عہبر گل خان نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نظر بندی کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا گیا ہے؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ ہوم سیکرٹری کے پاس درخواست دائر نہیں کی گئی۔وکیل تیمور نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ دیگر نظر بندی کے کیسز سے مختلف ہے، کیونکہ علیمہ خان کو جس روز گرفتار کیا گیا، اسی روز ان کی نظر بندی کا حکم بھی جاری کردیا گیا۔ وکیل کے مطابق اس صورتحال سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ نظر بندی کا حکم گرفتاری کے بعد جاری کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو ایک رپورٹڈ فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔ اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے پاس بھی متعلقہ عدالتی نظائر موجود ہیں اور متبادل دادرسی کا فورم دستیاب ہونے کی صورت میں ہائیکورٹ میں دائر رٹ درخواست قابل سماعت نہیں بنتی۔

جسٹس عہبر گل خان نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس اس معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کا کوئی کیس لاء موجود ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ ان کے پاس ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔واضح رہے کہ ایک روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں، علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نظر بندی کے احکامات قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری نہیں کیے گئے اور علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا۔درخواست میں ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او لاہور اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ درخواست کے آئندہ قانونی مرحلے کا تعین کرے گا۔