اقوام متحدہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو پیش آنے والے واقعات پر ’سازش‘ کا الزام

اقوام متحدہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو پیش آنے والے واقعات پر ’سازش‘ کا الزام

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ’’سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

 صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ان کی آمد کے دوران تین مختلف مواقع پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ٹرمپ کے مطابق جب وہ اور ان کی اہلیہ میلانیا الیکٹرک سیڑھی پر سوار ہوئے تو وہ اچانک بند ہوگئی، جس کے بعد انہیں پیدل سیڑھیاں چڑھنی پڑیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جب وہ خطاب شروع کرنے لگے تو ٹیلی پرامپٹر کام نہیں کر رہا تھا، جس سے تقریر متاثر ہوئی، اور ان کا خطاب صرف وہی لوگ سن پائے جن کے پاس ترجمے کے لیے خصوصی ہیڈفونز موجود تھے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری خط میں لکھا:’’یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش ہے، اقوام متحدہ کو اس پر شرمندہ ہونا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے وضاحت دی ہے کہ الیکٹرک سیڑھی کا اچانک رک جانا حفاظتی میکانزم کے فعال ہونے کی وجہ سے تھا، اور ممکنہ طور پر یہ غلطی امریکی وفد میں شامل کسی آپریٹر سے ہوئی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شریک تھے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، ماہرین کے مطابق یہ معاملہ امریکا اور اقوام متحدہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔