امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ سمیت دنیا کی سات جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جو مختلف ممالک کے قائدین سے براہِ راست بات چیت کے ذریعے ممکن ہوا، جبکہ اس میں اقوام متحدہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا عالمی سطح پر دوبارہ عزت و وقار حاصل کر رہا ہے اور داخلی مسائل پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟" اور ادارے کی کارکردگی پر تنقید کی۔
امریکی صدر نے غزہ میں جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حماس کو یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا تاکہ امن قائم ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے روس، چین، بھارت اور یورپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور روس کو خبردار کیا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو اس پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دنیا سمجھتی ہے کہ انہیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے۔