اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران عرب رہنماؤں کی صدر ٹرمپ سے ملاقات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران عرب رہنماؤں کی صدر ٹرمپ سے ملاقات

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عرب اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع، مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، شام کے صدر، عراق کے وزیراعظم اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام اور ثالثوں کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی، جسے انہوں نے تعمیری قرار دیا۔ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کی جانب پیش رفت کے امکانات موجود ہیں اور فریقین کے درمیان مزید بات چیت بھی متوقع ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے میں ایک بڑی رکاوٹ خود ایران ہے، تاہم انہوں نے ایرانی قیادت پر موجودہ موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایران کی معیشت کو بھی انتہائی خراب حالت سے دوچار قرار دیا۔

ٹرمپ نے ایران پر پڑوسی ممالک کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی جانب سے جوہری سرگرمیوں کے لیے پہاڑی تنصیبات میں دوبارہ سرگرمیاں نظر آئیں تو امریکا انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایسی تنصیبات پر دوبارہ بمباری بھی کی جا سکتی ہے۔امریکی صدر نے امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکان کو ختم کردیا ہے۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ تنازع ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہوسکتا ہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ انتخابات سے قبل ہی کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال
ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم موضوع رہی۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے اس وقت سب سے زیادہ تیل گزر رہا ہے۔ٹرمپ کے مطابق امریکا ایک ارب سے زائد بیرل تیل آبنائے ہرمز سے نکالنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ امریکی بحریہ نے آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے بھی صاف کیا ہے۔ امریکی فوجی حکام کی جانب سے بھی حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں اضافے کی تصدیق کی گئی ہے۔دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو امریکی فوجی دباؤ میں کمی اور پابندیوں میں نرمی سے مشروط کیا ہے۔امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان نیویارک میں ہونے والی حالیہ ملاقات کو جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم مذاکرات کے حتمی نتائج اور کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔