سیلاب متاثرین کی مشکلات: بحالی سست روی کا شکار، گھر واپسی دشوار

سیلاب متاثرین کی مشکلات: بحالی سست روی کا شکار، گھر واپسی دشوار

پنجاب میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے اثرات اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

 کئی نشیبی علاقوں میں تاحال پانی کھڑا ہے جس کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر اور متاثرہ خاندانوں کی گھروں کو واپسی مشکل ہو گئی ہے۔احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سینکڑوں مکانات تباہ اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ باغات، اسکول، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کے لیے چارے کی شدید قلت ہے اور جو گھر تباہ ہو چکے ہیں ان کے مکین ٹینٹ نہ ملنے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر راشن، خیمے اور جانوروں کے لیے چارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیلابی صورتحال کے باعث دریائے سندھ میں بھی خطرہ بدستور موجود ہے۔ کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کی آمد 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران ٹھٹھہ کے کئی کچے کے دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور لوگ قریبی بندوں پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔نواب شاہ اور مٹیاری کے کچے کے علاقے بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہالہ کے دیہاتوں سے لوگ کشتیوں کے ذریعے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے مگر خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں۔

پنجاب کے دریاؤں میں مجموعی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ جلال پور پیر والا میں پانی اترنے کے بعد 5 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ کبیر والا میں دریائے راوی اور چناب کا دباؤ کم ہو گیا ہے جبکہ دریائے ستلج میں کئی ہفتوں بعد پانی کی سطح معمول پر آنے لگی ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی پر بہاؤ نارمل ہو گیا ہے، صرف ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب باقی ہے جہاں پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔