اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کی آواز، ان کا تحفظ اور ان کے خواب انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اور ایسی معاشری ترقی ممکن نہیں جہاں عورتیں خوف یا خاموشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔
اپنے بیان میں خاتونِ اوّل نے کہا کہ ریاستِ پاکستان تمام خواتین اور بچیوں کی عزت، حقوق اور حفاظت کے تحفظ کے لیے بھرپور عزم رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ناگزیر ہے جہاں خواتین بغیر خوف کے زندگی گزار سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا مکمل اظہار کر سکیں۔
“سزا سے بچ جانے کی ثقافت ختم کرنا ضروری ہے”
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے زور دیا کہ سزا سے بچ جانے کی ‘اسکائپ فری کلچر’ کو ختم کرنا انصاف کی فراہمی کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو بہتر مدد فراہم کرنے اور ہر سطح پر جوابدہی یقینی بنانے کے لیے مزید سخت قوانین اور ان پر مؤثر عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔
تعصب کے مقابلے میں احترام، خاموشی کے مقابلے میں ہمت
خاتونِ اوّل نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ:
تعصب کے بجائے احترام
خاموشی کے بجائے ہمت
غفلت کے بجائے جوابدہی
کو اپنی ترجیح بنائے۔ ان کے مطابق آئندہ نسلوں کے لیے ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہوگا جو زیادہ محفوظ، مساوی اور عورت دوست ہو۔
پاکستان کی ترقی خواتین کی حفاظت سے مشروط ہے
آصفہ بھٹو زرداری نے زور دیا کہ قومی ترقی اس وقت ہی ممکن ہے جب ملک میں خواتین کے لیے زیادہ محفوظ ماحول موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہری، ادارے اور کمیونیٹیز کو خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
“ایسا مستقبل تشکیل دینا ہو گا جہاں ہر عورت خوف سے آزاد ہو”
اپنے بیان کے اختتام پر خاتونِ اوّل نے یہ عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ایسا مستقبل تشکیل دینا ہوگا جہاں:
ہر عورت اور بچی خوف سے آزاد ہو
انہیں مساوی مواقع حاصل ہوں
اور وہ ایک بااختیار اور محفوظ زندگی گزار سکیں